7 اکتوبر 2012 - 20:30

ترکی نیٹو کی مدد سے شامی افواج کو جنگ میں الجھاکر تکفیریوں کے ذریعے شام کے شہروں کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے / اردوغان کی عثمانی پالیسیوں پر نکتہ چینی / عراق میں ترک فوجی مشن میں توسیع غیرقانونی / انقرہ میں اردوگان کے خلاف زبردست مظاہرے / ترک باشندے اردوگان کے عطاکردہ میزائلوں کا نشانہ / شام کا بحران انقرہ اور واشنگٹن کی جدائی کا سبب ہوگا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترک حکومت نے گذشتہ دنوں مشکوک گولے ترکی کی حدود میں گرنے کے بعد سے شام کی سرحدوں پر بھاری نفری تعینات کی ہے اور فوجی سازوسامان اور ہتھیار منتقل کئے ہیں۔ لبنانی اخبار الدیار نے ایک رپورٹ میں ان مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ترک حکومت کو شام کے خلاف شیطانی سازشیں تیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ الدیار نے لکھا:٭ لگتا ہے کہ ترکی نیٹو کی مدد سے شام کے ساتھ اپنی آٹھ سو کلومیٹر طویل سرحد پر شامی افواج کو جنگ میں الجھا کر دہشت گردوں کی مدد سے شام کے شہروں کو تباہ کروانے کا منصوبہ رکھتا ہےیاد رہے کہ چند روز قبل ایک مشکوک گولہ شام سے فائر ہوکر ترکی میں گرا جس سے پانچ ترک باشندے جاں بحق ہوگئے اور ترکی نے فوری طور پر شامی فوجی ٹھکانوں پر گولہ باری کی لیکن شام نے کہا کہ گولہ فوج نے فائر نہيں کیا ہے اور یہ اقدام مشکوک ہے اور ممکن ہے کہ حکومت شام کے خلاف برسرپیکار اور ترکی ہی کے زیرسرپرستی دہشت گردوں نے شام کو جنگ میں الجھانے  کے لئے ایسا کیا ہو اور بعض مبصرین نے تو یہاں تک کہا کہ یہ واقعہ ترک حکومت کے اشارے پر رونما ہوا ہے تا کہ ترکی اور نیٹو کو شام پر حملہ کرنے کے لئے راستہ ہموار ہو۔ ٭ ہفتے کے دن بھی ایک مارٹر گولہ شام کی طرف سے فائر ہوکر ترکی میں گرا جس کے جواب میں پھر بھی ترکی نے شامی ٹھکانوں پر گولہ باری کی لیکن شام نے ترکی کو جنگ میں الجھنے سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شام مارٹر گولوں کی فائرنگ کے بارے میں تحقیق کررہی ہے۔٭ ترکی کا پلید منصوبہ نیٹو کے تعاون سے نافذ ہونے کا منصوبہ ہے؛ ترکی نے گذشتہ 48 گھنٹوں میں 200 توپ سرحد پر پہنچا دیئے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ "اگر شام سے مارٹر گولہ آیا تو ان سب توپوں سے استفادہ کیا جائے"۔+ واضح رہے کہ ترک سرحد کے قریبی شہروں میں امریکہ، یورپ، اسرائیل، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہزیمت اٹھانے پڑرہی ہے اور مشکوک مارٹر گولوں کا ترکی میں گرنا اور ترکی کی طرف سے بھاری توپخانےکی گولہ باری اس تناظر میں زیادہ بہتر انداز سے سمجھ میں آتی ہے کہ وہ روبہ شکست دہشت گردوں کو مدد فراہم کررہے ہيں۔٭ ترکی کی حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولہ "فری سیرین آرمی" نے ہی مارٹر گولے ترکی میں فائر کئے ہیں اور دہشت گردوں نے یہ گولے اردوگان حکومت کی درخواست پر فائر کئے ہیں تا کہ ترک فوج شام کو گولہ باری کا نشانہ بنائے۔ ٭ ترکی کا شیطانی منصوبہ یہ ہے کہ فری سیرین آرمی ترکی کو مارٹر گولوں کا نشانہ بناتی ہے تا کہ یہ اقدام ترکی اور نیٹو کی طرف سے شام کے خلاف جنگ کا آغاز کرسکے۔ ٭ حلب میں آپریشن نے شامی فوج کو اکثر علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کی قوت دی جس سے خلیج فارس کی ریاستیں غضبناک ہوگئیں اور انھوں نے ترکی سے درخواست کی کہ حلب میں زيادہ سے زیادہ درانداز بھیج دے اور زيادہ سے زیادہ ہتھیار پہنچا دے؛ اس سلسلے میں قطر نے کلیدی کردار ادا کیا اور ترک حکومت کے لئے ہتھیاروں سے بھرا ایک طیارہ بھجوایا اور بڑی رقوم ادا کیں۔ ٭ اس منصوبے کے مطابق شامی افواج ریف حلب میں مصروف رہیں گے اور دہشت گرد حماء، حمص میں حکومت کے خلاف لڑ سکیں گے۔ ٭ طے پایا ہے کہ نیٹو اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی منظوری سے ترکی اپنے جنگی نقشے کو ہر روز اور ہر ہفتے وسعت دے گا۔ اس منصوبے کے تحت ترکی اور شام کے درمیان گولہ باریوں کا تبادلہ ہر روز جاری رہنا چاہئے تا کہ شام کی فوج اپنی پچاس ہزار فوج توپخانے اور ٹینکوں کے ہمراہ سرحد پر تعینات کرنے پر آمادہ ہوجائے تا کہ عرب ریاستیں اور نیٹو کے رکن ممالک کہہ سکیں کہ شامی فوج سرحد پر مصروف ہوگئی ہے جس کے بعد مسلح دہشت گرد دوسرے شہروں میں کاروائیاں کرنے کا امکان پائیں گے۔ ٭ شامی حکومت اس سازش سے آگاہ ہے اسی لئے اس نے اپنا توپخانہ بہت محدود پیمانے پر تعینات کیا ہے اور عرب ریاستوں، نیٹو اور ترکی کی توقع کے مطابق، پچاس ہزار شامی فوجی سرحدوں پر نہيں آئے ہیں۔٭ روس نے ترکی سے کہا ہے کہ شام کے خلاف ؛ بالخصوص ترک پارلیمان کی طرف سے شام کے خلاف جنگ کی اجازت ملنے کے بعد، جنگ شروع کرنے سے باز رہے جس کے بعد ترک وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ شام کے خلاف جنگ لڑنے کا ارادہ نہيں رکھتے اور پارلیمان کی اجازت صرف شام کی طرف سے حملوں کے تدارک کے لئے ہے حالانکہ پارلیمان کی طرف سےشام کے خلاف جنگ لڑنے کی اجازت کے معنی شام خلاف جنگ ہی کے زمرے میں آتی ہے۔ ٭ یہ کاروائیاں محدود نہيں ہونگی اور ان میں ہرروز اضافہ ہوگا کیونکہ اگر توپخانے اور ٹینکون کی گولہ باری کی بات ہوتی تو اس کے لئے پارلیمان کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے لہذا ترکی کے پیش نظر شام کے خلاف بڑی جنگ ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ترکی شام میں دس کلومیٹر تک داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور پارلیمان کی اجازت ترکی سے افواج کا نکلنےاور شام میں ان کے داخلے کے لئے ہے۔ ٭ ترک حکومت نیٹو، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد سے شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے منصوبے پر کاربند ہے جس کا مقصد امریکہ، اسرائیل، عرب ریاستوں اور ترکی و نیٹو کی طرف سے شام کی افواج پر دباؤ بڑھانا اور ان افواج کو دوطرفہ گولہ باریوں میں الجھنا ہے اور اس خفیہ منصوبے کا نفاذ گذشتہ ایک ہفتے سے شروع ہوچکا ہے۔

اردوغان کی عثمانی پالیسیوں پر نکتہ چینیترک تجزیہ نگار نے شام، عراق اور ایران کے حوالے سے وزیراعظم رجب طیب اردوگان کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان کی روش کو "جدید عثمانیت" قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق ترک مبصر و تجزیہ نگار "برکات قار" نے العالم کے ساتھ اپنے مکالمے میں ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کی پالیسیوں کو ترکی کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا: کہ اردوگان کی پالیسیاں سب سے پہلے ترکی کے لئے مضر ہیں۔انھوں نے کہا: انقرہ نے امریکہ کی سبز بتی (گرین سگنل) پر پڑوسی ممالک کے خلاف معاندانہ پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ انھوں نے کہا: ترک پارلیمان نے اردوگان کو "سرحد پار" کاروائیوں کی اجازت دی ہے اور یہ اجازت عراق، شام اور حتی کہ ایران کی سرحدوں پر مشتمل ہے اور اگر اردوگان حکومت ان ممالک میں کوئی کاروائي ضروری سمجھے تو وہاں کاروائی اور فوجی مداخلت کرسکے گی۔ انھوں نے کہا: اردوگان نے عراق کے مفرور سابق نائب صدر، جو عراق میں دہشت گردی اور درجنوں افراد کے قتل کے الزام میں مجرم قرار دیئے گئے ہيں اور پھانسی کی سزا پا چکے ہیں، کو پناہ دے کر اور انہیں تحفظ فراہم کرکے اور حتی کہ ترک شہریت دے کر، حکومت عراق کے خلاف دشمنی پر مبنی موقف اپنایا ہے۔ برکات قار نے مزید کہا: ترکی اور عراقی کردستان کے حکمران مسعود بارزانی کے درمیان منعقدہ معاہدوں کی وجہ سے حالات مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہوگئے کیونکہ یہ معاہدے عراق کی مرکزی حکومت کو اطلاع دیئے بغیر منعقد کئے گئے ہیں جبکہ پورے عراق کی حاکمیت بغداد حکومت کے ہاتھ میں ہے اور اس کو کم از کم یہ حق پہنچتا ہے کہ کردستان کے ساتھ ہونے والے بیرونی معاہدوں سے باخبر رکھی جائے۔ انھوں نے کہا: انقرہ یہ اقدامات امریکہ کی سبز بتی دیکھ کر کررہا ہے ورنہ ترکی میں ایسے اقدامات کی جرأت نہ تھی۔انھوں نے کہا: اردوگان کی پالیسیوں کی وجہ سے علاقائی صورت حال مزید پیچیدہ اور مبہم ہوجائے گی۔انھوں نے اردوگان کی جماعت "جسٹس ایند ڈیویلپمنٹ پارٹی" پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس جماعت کی پالیسیاں اور "جدید عثمانیت" (یا عثمانی سلطنت کے احیاء کی خواہش) پر مبنی رویئے اور تسلط پسندیاں مملکت ترکی اور ترک قوم کے لئے ناقابل تلافی نقصانات کے اسباب فراہم کریں گی؛ جبکہ ان سے ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہيں ملے گا۔انھوں نے کہا: تمام اہل نظر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ترکی کو شام، عراق، ایران اور پورے خطے کے سلسلے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ترکی اندرونی سطح پر عظیم ترین مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور اس کو اسی راستے پر گامزن ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا: انقرہ کی سڑکوں پر لاکھوں افراد نے مظاہرہ کرکے اردوگان حکومت کی طرف سے شام پر جنگ مسلط کرنے کی پالیسی کی مخالفت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عراق اور شام کے سلسلے میں عوامی رائے کو مد نظر رکھے۔ انھوں نے اردوگان کی پالیسیوں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی حکومت اپنی غلط پالیسیوں پر کاربند رہے گی اور لگتا ہے کہ پارلیمان اور قوم کی سطح پر اردوگان کی شدید مخالفت کے پیش نظر ملک کی صورت حال مزید ابتر ہوگی۔

عراقی رکن پارلیمان:عراق میں ترک فوجی مشن میں توسیع غیرقانونی ہےکرد عراقی رکن پارلیمان نے ترک پارلیمان کی طرف سے عراق اور دوسرے پڑوسی ممالک میں کردوں کے خلاف کاروائیاں کرنے کے ترک فوجی مشن کی توسیع کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ترک پارلیمان پر تنقید کی ہے۔  اطلاعات کے مطابق عراقی پارلیمان کو کرد رکن "محمود عثمان" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انقرہ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد اور فوجی کاروائیوں کے بجائے بحرانوں کو حل کرنے کے لئے مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسی اپنائے کیونکہ تشدد ترکی کے لئے منفی نتائج کا سبب ہے۔انھوں نے کہا: کسی ملک کی پارلیمان کو بھی یہ حق نہيں پہنچتا کہ وہ اپنی افواج کو سرحد سے نکل کر دوسرے ملکوں کے اندر کاروائیاں کرنے کے لئے قانون منظور کرے لیکن ترک حکومت گذشتہ پانچ برسوں سے اسی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے حالانکہ ترک پارلیمان کا یہ اقدام تمام قوانین کے مطابق غلط، ناجائز اور غیرقانونی ہے۔ انھوں نے کہا: جو بھی ترک حکومت کی مخالفت کرے اور اس کی خواہشات کی مزاحمت کرے یہ حکومت اس کو دہشت گرد سمجھتی ہے اور پھر توقع رکھتی ہے کہ ان پالیسیوں کے توسط سے وہ اپنے مقاصد حاصل کرسکے گی۔ انھوں نے کہا: جنگ اور تشدد کے ذریعے نہیں بلکہ گفتگو اور مفاہمت کے ذریعے سرحدوں کے دونوں جانب امن و امان بحال ہوسکتا ہے۔انھوں نے کہا: اردوگان نے کردوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے اور نہ صرف کرد ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ بات چیت کے قائل نہيں ہیں بلکہ ان قانونی کرد جماعتوں کے ساتھ بھی مکالمہ اور مذاکرہ کرنے کے بارے میں کچھ نہيں کہتے۔ حالانکہ یہ سیاسی جماعتیں کرد پارلیمان میں نشستیں جیت چکی ہیں اور ان کے نمائندے پارلیمان میں بیٹھے ہیں۔ انھوں نے کہا: اردوگان کا کہنا ہے کہ "ہوسکتا ہے کہ وہ اوجلان کے ساتھ بات چیت کریں" حالانکہ اوجلان جیل میں ہیں اور اگر وہ مذاکرات کے خواہاں ہیں تو انہیں اوجلان کو رہا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کردوں کے سلسلے میں اردوگان کے حالیہ بیانات کو منفی اور غیر اہم قرار دیا اور کہا: اردوگان کے موقف میں ترک حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی کے حوالے سے کوئي بھی نئی بات سننے کو نہیں ملی۔ انھوں نے کردوں سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں تعاون کرنے کی درخواست کی ہے جس کا مفہوم